سنو,
تمھاری وفائوں پر مجھ کو,
یوں تو پورا یقین ہے,
مگر زمانے کے وار کا کچھ بھروسہ نہیں,
سو گر کبھی ایسا ہوجائے,
اور تمہیں مجھ سے نفرت ہوجائے..
تو ان راہوں سے نفرت نا کرنا,
جن پر کبھی ہم اک ساتھ چلے تھے,
کہ کسی کے قدموں کی بے ثباتی سے,
بھلا ان بل کھاتی راہوں کا کیا واسطہ,
ان نظاروں سے نفرت نا کرنا,
جو کبھی ہم نے ایک ساتھ دیکھے تھے.
کہ کسی کے وجود کی بد ہیئت ویرانی سے,
بھلا ان خوبصورت نظاروں کا کیا لاحقہ,
ان باتوں سے نفرت نا کرنا,
جو کبھی ہم.نے کی تھیں..
کہ کسی کی بے توازن شخصیت کی کڑواہٹ سے,
بھلا ان میٹھی باتوں کا کیا سابقہ,
ان خوابوں سے نفرت نا کرنا جو کبھی ہم نے ساتھ مل.کر دیکھے تھے,
کہ کسی پیکر بدنصیب کے گھنائوں نے پن سے,
بھلا ان روشن تعبیروں کا کیا رابطہ,
بس مجھ ہی سے نفرت کرنا کہ میری روح کی سیاہی سے, دنیا کا ہر رنگ پھیکا ہے, ہر راہ بے راہ ہے, ہر نظارہ مکروہ ہے, ہر خواب سیراب ہے.
بس مجھ ہی سے نفرت کرنا,
کہ بس میں ,
اور میں ہی,
تمہاری اس نفرت کے قابل ہوں..
Saturday, January 28, 2017
وفا (عبداللہ ناول)
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment