Saturday, January 21, 2017

محبت نہیں

"مجھے تم سے محبت نہیں", اس نے کہا
یقینا تھے تو یہ بس الفاظ ہی مگر نجانے کیوں, میرا سراپا لرز سا گیا, جیسے سور پھونکھ دیا گیا اور میرا ریزہ ریزہ بکھر رہا ہو...دل چاہا کہ سب بند توڑ کے رو دوں یا گلا پھاڑ کے چلائوں... مگر نجانے کیوں ایک عجیب سا اطمینان آگیا.. یہ نہیں کہ اس کے کھو جانے کا درد کم ہوگیا مگر اک خوشی تھی کہ جس فیصلے نے اسے اتنے دنوں سے مضطرب رکھا تھا, اسے اس سے نجات ملی,...
ہمیشہ کہا کرتا تھا میں اسے کہ میں اسے کھبی اتنی آسانی سے جانے نہیں دے سکتا, چاہا بہت کہ اور کوشش کرکے, کچھ حیلے بہانے, دلائل دے کر روک لوں ..
اسے,
مگر, محبت کب کس دلیل کی ہوئی, کوشش جتن کس کے سگھے, محبت کی تو جا سکتی ہے مگر مانگی نہیں جاسکتی... پھر اچانک ایک اور وعدہ یاد آیا اس سے کیا ہوا...
کہ میں تمھارے لئے تمھیں بھی چھوڑ سکتا ہوں....
پھر بس, وقت شاید تھم سا گیا..
اسکی خوشی کے آگے میں کل بھی بے بس تھا اور آج بھی ہوں...
بس اس بات کی خوشی ہے کہ اب میری وجہ سے وہ کبھی پریشان نا ہوگی اور اس کو اذیت میں دیکھنا وہ بھی اپنی وجہ سے شاید اس کے منع کرنے سے بھی بڑا درد تھا...
سو آج دکھی زیادہ ہوں یا خوش,
نہیں پتہ مجھے...
مگر
وہ خوش ہے, اور میں اسکی خوشی میں خوش...

No comments: