درد اتنا کہ بیاں ہو نا پائے,
سکوت اتنا کہ مر جانے کو دل چاہے,
الفاظ میرے مجھی میں کہیں گم,
میری تحریریں بھی ساتھ نا نبھائے,
اشک جو کبھی بات بات پہ امڈ آئے,
یہ آنکھیں اب کس کے نام کے نالے بہائے,
وہ شخص جو کبھی میرا جہاں تھا,
وہ جو نہیں, تو کیا کیا جائے۔۔
No comments:
Post a Comment