Saturday, August 12, 2017

Destiny

yeh us waqt ki baat hai jb chotey bhai ka result aaya he when he saw that he has passed the exam to he started crying, crying so loud k my mom screamed "kiya hogya?" ro kyun rhe ho yeh to khushi ki baat hai, be he kept crying and i was sitting in front of him watching him and smilling, thinking "Finally he has found his destiny, kitna khushnaseeb hai k yeh ro skta hai, is ne itni koshish k aakhir he finally found his destiny, yeh sala aanso bhi ajeeb cheez hote hai khushi ho ya ghum, umad hi aate hai, na khabhi moqa dekhte bus chalak jatey hai...
phir i thot perhaps yehi to nishani hai Insan hone ki, yeh hi to btatte hain k hum ne kitni justajo ki thi kisi ko paane ki, kisi ki mehromiyo ki kahani to kisi ki fatoohat ka naama hain yeh aanso...yehi to hain jo hum main aur haiwano main farq krte hain....then i thot khabhi mera bhi aesa waqt aaya hai k jub i so wanted to kneel down and cry and many moment passed by, but at that tym i ddint cry cz what every one thot a destiny was just a check point for me, tho i knelt down, tired and wounded by still i knew there are more to go, way to go beyond...mujhe pta hi nai meri mazil kiya hai, main hi aesa kyun hun, main aaik aam insan ki tarah kyun nai, choti choti khushiyo pe khush hona, wese hi naraz hojana.....!! kiya main insan bhi hun k nai...
then a thot came shayed main hi to insan hun jis k bare main Allah SWT said "Beshak insan khasare main hai", Insan ki khawahiso ki koi limit nai, wo ksi cheez pe khush nai hota usey bus aur chahiye hota hai
phir kuch logo ki baat yaad aaye "Alvi Just love himself, noone else". Yeh baat bhi maan k main kuch arsa chala mgr wo kehte hai na k jisey chaho ya to usey apna bna lo ya khud us k ban jao...mgr main na to khud ko apna bna ska nahi main khud apna bn ska :S
to phir kiya hai meri haqeeqat, kiya hun main....mujhe khud nai pta, and still trying to find that answer

Saturday, January 28, 2017

وفا (عبداللہ ناول)

سنو,
تمھاری وفائوں پر مجھ کو,
یوں تو پورا یقین ہے,
مگر زمانے کے وار کا کچھ بھروسہ نہیں,
سو گر کبھی ایسا ہوجائے,
اور تمہیں مجھ سے نفرت ہوجائے..
تو ان راہوں سے نفرت نا کرنا,
جن پر کبھی ہم اک ساتھ چلے تھے,
کہ کسی کے قدموں کی بے ثباتی سے,
بھلا ان بل کھاتی راہوں کا کیا واسطہ,
ان نظاروں سے نفرت نا کرنا,
جو کبھی ہم نے ایک ساتھ دیکھے تھے.
کہ کسی کے وجود کی بد ہیئت ویرانی سے,
بھلا ان خوبصورت نظاروں کا کیا لاحقہ,
ان باتوں سے نفرت نا کرنا,
جو کبھی ہم.نے کی تھیں..
کہ کسی کی بے توازن شخصیت کی کڑواہٹ سے,
بھلا ان میٹھی باتوں کا کیا سابقہ,
ان خوابوں سے نفرت نا کرنا جو کبھی ہم نے ساتھ مل.کر دیکھے تھے,
کہ کسی پیکر بدنصیب کے گھنائوں نے پن سے,
بھلا ان روشن تعبیروں کا کیا رابطہ,
بس مجھ ہی سے نفرت کرنا کہ میری روح کی سیاہی سے, دنیا کا ہر رنگ پھیکا ہے, ہر راہ بے راہ ہے, ہر نظارہ مکروہ ہے, ہر خواب سیراب ہے.
بس مجھ ہی سے نفرت کرنا,
کہ بس میں ,
اور میں ہی,
تمہاری اس نفرت کے قابل ہوں..

Monday, January 23, 2017

چھوٹتے رشتے...

چھوٹے چھوٹے ناجانے کتنے رشتوں کے سرے گنتا بیٹھا تھا,
جو رشتے چھوٹ گئے وہ کہانیاں بن گئے,
جنہیں کہتے سنتے ہمارا وقت بیت جاتا ہے,
اور جو رشتے چھوٹنے کو ہیں.
ان کی مثال اس کٹی پتنگ کی سی ہے,
جس کی ڈور کسی دوسرے نے پکڑ لی ہو,
اور وہ دوسرے سرے پہ کھڑا انتظار کر رہا ہو,
نا رشتہ توڑتا, نا چھوڑتا ہے,
اور یہاں آپ پتنگ کے دکھ کو بھلا کے ڈور کو بچانے میں لگ جاتے ہیں..
دونوں کے رشتوں کا تنائو ڈور پہ بخوبی دیکھا جاسکتا ہے,
ڈھیل, کھنچائو چلتا رہتا ہے,
کیونکہ جو پہلے ڈور توڑے گا اس کا حصہ.کم,
صبر
صبر کا ہی امتحان ہوتا ہے,
کیونکہ پتنگ سے زیادہ ڈور کی ملکیت ضروری ہوتی ہے,
اگر اس نے رشتہ پہلے توڑا تو کہانی آپ کی,
آپ اس کے فاتح,
مگر..
اگر آپ کا صبر ٹوٹا,
تو پوری زندگئ,کہانی.میں آپ کا.کردار شکست خوردہ انسان...
جو اپنی پتنگ کے ساتھ ساتھ,
اپنی ڈور بھی گنوا بیٹھا...

بے زبان

درد اتنا کہ بیاں ہو نا پائے,
سکوت اتنا کہ مر جانے کو دل چاہے,
الفاظ میرے مجھی میں کہیں گم,
میری تحریریں بھی ساتھ نا نبھائے,
اشک جو کبھی بات بات پہ امڈ آئے,
یہ آنکھیں اب کس کے نام کے نالے بہائے,
وہ شخص جو کبھی میرا جہاں تھا,
وہ جو نہیں, تو کیا کیا جائے۔۔

Saturday, January 21, 2017

محبت نہیں

"مجھے تم سے محبت نہیں", اس نے کہا
یقینا تھے تو یہ بس الفاظ ہی مگر نجانے کیوں, میرا سراپا لرز سا گیا, جیسے سور پھونکھ دیا گیا اور میرا ریزہ ریزہ بکھر رہا ہو...دل چاہا کہ سب بند توڑ کے رو دوں یا گلا پھاڑ کے چلائوں... مگر نجانے کیوں ایک عجیب سا اطمینان آگیا.. یہ نہیں کہ اس کے کھو جانے کا درد کم ہوگیا مگر اک خوشی تھی کہ جس فیصلے نے اسے اتنے دنوں سے مضطرب رکھا تھا, اسے اس سے نجات ملی,...
ہمیشہ کہا کرتا تھا میں اسے کہ میں اسے کھبی اتنی آسانی سے جانے نہیں دے سکتا, چاہا بہت کہ اور کوشش کرکے, کچھ حیلے بہانے, دلائل دے کر روک لوں ..
اسے,
مگر, محبت کب کس دلیل کی ہوئی, کوشش جتن کس کے سگھے, محبت کی تو جا سکتی ہے مگر مانگی نہیں جاسکتی... پھر اچانک ایک اور وعدہ یاد آیا اس سے کیا ہوا...
کہ میں تمھارے لئے تمھیں بھی چھوڑ سکتا ہوں....
پھر بس, وقت شاید تھم سا گیا..
اسکی خوشی کے آگے میں کل بھی بے بس تھا اور آج بھی ہوں...
بس اس بات کی خوشی ہے کہ اب میری وجہ سے وہ کبھی پریشان نا ہوگی اور اس کو اذیت میں دیکھنا وہ بھی اپنی وجہ سے شاید اس کے منع کرنے سے بھی بڑا درد تھا...
سو آج دکھی زیادہ ہوں یا خوش,
نہیں پتہ مجھے...
مگر
وہ خوش ہے, اور میں اسکی خوشی میں خوش...

اے دل تمام شد

اے دل تمام شد,
تیری حسرتیں, تیری حکایتں,
تیری امیدیں, تیری خواہشیں,
تیری بندگی, تیری بے ربتگی,
لاحاصل کے لئے مرنا,
اور مرتے مرتے جینا,
ختم شد...!!
اے دل تمام شد..

بلا عنوان

کبھی اپنی خواہشات کی تکمیل میں ہم اتنے اندھے ہوجاتے ہیں کہ بس ان کی تکمیل کے لئے سب کچھ کر گزرنے کو تیار ہوتے ہیں. اس چیز سے قطع تعلق کہ اپنی خواہشات کے حصول کے لئے ہم کسی کا روگ یا کسی کی تکلیف کا باعث تو نہیں بن رہے. ہمیں بس جو نظر آتا ہے وہ اپنی خوشی, ان کے لئے سبھی رشتے ناطے روندتے چلے جاتے ہیں.  مگر محبت, محبت سب کچھ پا لینے کا نام تو نہیں.. لازمی تو نہیں جس سے محبت کی جائے اسے پا ہی لیا جائے. محبت ہونے کے لئے لازمی نہیں کہ دوسرا انسان بھی ہو, مگر محبت کی تکمیل دوسرے انسان پہ بھی منحصر ہوتی ہے. ہر محبت کامل نا ہوئی ہے نا ہوسکتی ہے.. محبت کوئی سودا تھوڑی کہ محبت کے بدلے محبت ہی کی جائے..محبت تو ایک جذبہ ہے, کیا تھوڑی جاتا, ہوجاتا ہے.. کبھی کسی کی ہنسی سے تو, کبھی کسی کے ساتھ گزارے لمحوں سے.. مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں- دوسرا بھی آپ کے احساسات کے طابع ہو.. محبت میں کبھی صحیح, غلط تھوڑی دیکھا جاتا, محبت تو بس کی جاتی ہے اور ہوجاتی ہے....
اور کبھی کبھار, نہیں بھی..!!!

شروعات..

صبح بخیر زندگی.